بنگلورو31جنوری(ایس او نیوز) ریاست کرناٹک میں شراب نوشی پرمکمل طو رپر پابندی عائد کی جائے ۔ ریاست کو شراب سے پاک نہیں کیا گیا تو احتجاج کو پرتشدد بنایا جائے گا ۔ چترا درگہ سے پا پیادہ شہر آنے والی احتجاجی خواتین نے آج ودھان سودھا کے روبر و ریاستی حکومت کو انتبا ہ دیا ۔شراب پر مکمل پابندی عائد کرنے کااصرار کرتے ہوئے چترا درگہ سے پیدل آنے والی احتجاجی خواتین ریلی پیر کے دن ملیشورم کے گراؤنڈ میں جمع ہوئیں وہاں سے ودھان سودھا کو گھیرنے کے لئے خواتین نکلیں تو پولیس انہیں روک کر فریڈم پارک لے گئی ۔ احتجاجی خواتین نے کہا کہ مہا تما گاندھی کے اہم ترین خوابوں میں ایک خواب سماج و معاشرہ کوشراب کی لتسے پاک کرنا ہے ۔ ترک شراب نوشی کرناٹک آندولن تنظیم نے 19جنوری کو چترا درگہ سے بنگلور پیدل مہم شروع کی تھی ۔ چترادرگہ سے200کلومیٹر پر مشتمل پد یاترا میں 3ہزار سے زائد خواتین نے حصہ لیا ۔ خواتین کے ساتھ سینکڑوں مرد بھی حمایت دیتے ہوئے پدیاترا میں شامل ہوگئے۔ اس مہم میں معمر خواتین ، حاملہ، کمسن مائیں اور شراب کی لت سے خانہ خراب کم سن بیوہ خواتین بھی شامل تھیں۔ یہ منظر انتہائی دلدوز اور آبدیدہ کرنیوالا تھا ۔ احتجاج میں شامل فریڈم فائٹر ایچ ایس دورے سوامی نے کہا کہ شراب نوٹشی کی تباہ کاریوں سے ہم اور ہمارا معاشرہ جو جوھ رہا ہے ۔ کئی کنبے در بدر ہوکر رہ گئے ہیں۔ اس کے باوجود حکومتیں شراب کی فروخت کو فروغ دے رہی ہیں۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ شراب ،دارو اور اس قسم کی تمام اقسام عوام کی صحت تباہ و تاراج کررہی ہیں اور عوام کی عقل کو خراب کررہی ہیں۔ شراب کے کاروبار سے آئی ٹیکس کی رقم سے ترقیاتی کام کئے جارہے ہیں۔ گناہ اور نشہ کے پیسوں سے انتظامیہ چلانا اچھی بات نہیں ہے ۔ آندولن کے ایک رکن نے کہا کہ احتجاج کو مزید متاثر کن بنانے کیلئے جیل بھرو تحریک شروع کی جا ئے گی۔ شراب کی لت میںآئے افراد سے سب سے زیادہ خواتین متاثر ہورہی ہیں۔ خواتین کو شراب کی لت سے ہورہی پریشانیوں و نقصانات سے آزاد کرنے کیلئے ریاست کے نامی گرامی کئی افراد 500خواتین کے ساتھ جیل بھرو تحریک چلائیں گے۔ریاست کے ہر تعلقہ اورضلع مراکز میں شراب پرمکمل پابندی عائد کرنے کے اصرار کے ساتھ یہی تحریک دراز کی جائے گی ۔ خواتین کی اس مہم کو ہر طرف اور ہرشعبہ سے تائید حاصل ہورہی ہے۔ کسان ، فریڈم فائٹر ،خواتین ،طالبات ، طلبہ سمیت دلت کی جانب سے بھی بھر پور حمایت مل رہی ہے ۔ دوسری طرف وزیر اعلیٰ کما رسوامی پر دباؤ بنانے کیلئے سماجی کارکن ایس آر ہیرے مٹھ اور کنڑاادیب دیو نور مہادیو نے حکومت کو مکتوب روانہ کیا ہے ۔ مکتوب میں خواتین کے مسائل حل کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔
حفاظتی بندوبست: شمالی ڈویژن کے ڈی سی پی چیتن سنگھ راٹھور کی زیر قیادت 1اے سی پی ، 5انسپکٹر سمیت 250پولیس اہلکاروں کو احتجاج کی نگرانی و حفاظت کیلئے تعینات کیاگیا ہے ، اور 150خاتون اہلکاروں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔
حکومت پر کوئی اثر نہیں: شراب پر مکمل پابندی عائد کرنے کے اصرار کے ساتھ ریاست بھر سے 2500تا 3,000خواتین احتجاج کررہی ہیں ۔ چترادرگہ سے پیدل چلتے ہوئے بنگلورپہنچی ہیں۔ بنگلور چلو پد یاترا 130کلومیٹر فاصلہ طے کرکے دسویں دن میں قدم رکھ چکی ہیں ۔ لیکن اب تک اس مہم پر حکومت نے توجہ دی ہے اور نہ اپوزیشن پارٹی نے کس بھی پارٹی کا کوئی بھی عوامی نمائندہ اس مہم کی تائید کے لئے آگے نہیں آیا ۔کسی نے ہماری رائے لی اورنہ ان کی رائے واضح کی ۔ احتجاجی کارکن ساوتر ما نے کہا کہ حکومت ایک ہاتھ سے مفت چاول دے رہی ہے ، کاشتکاری قرضہ معاف کررہی ہے ۔ لیکن دوسری طرف شراب نوشی کو ترغیب بھی دے رہی ہے ۔حکومت ایک ہاتھ سے لقمہ دے کر دوسرے ہاتھ سے وہ لقمہ چھینتے ہوئے غریب کسان اور قلی مزدور کنبہ کو در بدر کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ایک اور خاندان نے اپنا دکھڑا سناتے ہوئے کہا کہ ہمارے بچے شراب کی لت میں پڑ کرکھیت کھلیان ،دھن دولت اور جاندار سب برباد کردےئے ہماری طرح گاؤں میں بہت سارے کنبوں نے اپنا سب کچھ کھودیا ہے ۔ مرد شراب کی لت میں پڑ کر پیتے پیتے ایک دن بیمار ہوجاتے ہیں اور ہم سب کو یتیم بنا کر چلے جاتے ہیں۔